Type Here to Get Search Results !

Ads

ہولو کاسٹ کیا ہے؟

what is holocaust


 

 تعارف؛ 

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہولوکاسٹ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ ساٹھ لاکھ یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں اور لاکھوں دیگر لوگوں کا منظم ریاستی سرپرستی میں قتل تھا۔ جرمنوں نے اسے "یہودی سوال کا حتمی حل" قرار دیا۔ 

مگر آخری ہٹلر یہودیوں سے نفرت کیوں کرتا تھا اور اس نے یہودیوں کو جرمنی سے کیوں نکالا ؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب حاصل کرنے کے لیے کئی کتابیں لکھی گئیں مگر  تقریباسب میں  ایک بات مشترکہ ملی ہے کہ ہٹلر جرمن قوم کو دنیا کی بہترین قوم سمجھتا خیال تھا کہ صرف جرمن قوم ہی کو دنیا پر حکمرانی کا حق حاصل ہے اور جرمنی کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک سے تمام غدار ختم کر دیئے جائیں ۔جو ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میں رہنے والے یہودیوں نے درپردہ جرمن مفاد کے خلاف برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دیا تھا جرمنی میں رہتے ہوئے جرمنی کے خلاف کام کرنا ہٹلر کے نزدیک ناقابل معافی جرم تھا۔صرف یہی بات نہیں تھی ہٹلر چونکہ ایک عیسائی تھا اور وہ اپنے مذہب اور یہودیوں کی مذہبی تاریخ سے بخوبی واقف تھا اس کے خیال کے مطابق یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کو اذیت دی اور ایک عیسائی ہونے کے ناطے وہ اس سے بھی واقف تھا کہ یہ یہودی علماء ہی تھے جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو پھانسی دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اس لیے وہ انہیں ایک لعنت زدہ نسل سمجھتا تھا اور دنیا کو یہودیوں سے پاک کر دینا چاہتا تھا۔

 لوسی ایس ڈیوڈوچز، جنہوں نے یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ پر اپنی کتاب کا عنوان دیا۔ ایک حصے میں اس نے دکھایا کہ کس طرح جرمنی نے بیک وقت دو جنگیں لڑیں: دوسری جنگ عظیم اور یہودیوں کے خلاف نسلی جنگ۔ اتحادیوں نے صرف عالمی جنگ لڑی۔

ہولو کاسٹ کا لفظ یونانی ہولو کاسٹن سے ماخوذ ہے ایک عبرانی لفظ ہے جس کا ترجمہ  ہے  خدا کو پوری طرح پیش کی جانے والی سوخنی قربانی ۔  اس لفظ کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ نازیوں کے قتل کے پروگرام کے حتمی مظہر یعنی قتل و غارت گری کے کیمپوں میں متاثرین کی لاشوں کو قبرستان اور کھلی آگ میں جلا دیا گیا تھا۔

 ہولوکاسٹ کے ابتدائی عوامل

 لگ بھگ  1930کی دہائی میں ایڈولف ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور اخراج کا جائزہ۔

جیسا کہ 1919 کے اوائل میں ایڈولف ہٹلر نے لکھا تھا، "تاہم عقلی دشمنی کو منظم قانونی مخالفت کی طرف لے جانا چاہیے۔اس کا حتمی حل یہودیوں کو ہٹانا ہونا چاہیے۔ہٹلر نے 1925-27 اپنی ایک کتاب میں ہیودیوں کو ایک بری نسل کے طور پر بتایا جو کہ kamfp"My Striggle"دنیا پر اپنے تسلط کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے

 جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی، انہوں نے کھل کر اپنے یہود مخالف عقائد کا اظہار کیا۔ نازی سامیت دشمنی کی جڑیں مذہبی اور سیاسی سامیت دشمنی میں تھیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اتحادیوں نے افریقہ میں جرمنی کی کالونیوں سے انکار کر دیا۔ نتیجے کے طور پر، ہٹلر نے جرمن علاقے کو بڑھانے اور وسائل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ قلیل وسائل خاص طور پر پہلی جنگ عظیم کے دوران اہم تھے۔ ہٹلر نے یہودیوں کو جرمنی کے لیے نسلی اور سماجی خطرہ کے طور پر دیکھا۔

قانون سازی

 ستمبر 1935 میں نیورمبرگ میں نازی پارٹی کے سالانہ اجلاس کے دوران، یہودی مخالف قوانین نافذ کیے گئے۔ ان قوانین نے باہمی شادیوں کو ممنوع قرار دیا اور شہری اور سیاسی حقوق کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھا جو خالص جرمن سمجھے جاتے ہیں، مؤثر طریقے سے جرمنوں اور یہودیوں کو تقسیم کرتے ہیں۔

hitler stands in front of germans


 ہولو کاسٹ کی ابتداء

نومبر 1938 کی رات کو یہودیوں کے خلاف تشدد شروع ہو گیا بظاہر یہ کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا یہ ایک یہودی کے ہاتھوں پیرس میں ایک جرمن افسر کے قتل پر جرمنوں کے غصے کا نتیجہ تھا دو دنوں میں 250 سے زائد یہودی عبادت گاہیں جلا ی گئیں 7 ہزار سے زائد یہودی کاروباروں کی لوٹ مار کی گئی اور انہیں تباہ کر دیا گیا درجنوں یہودیوں کو مار دیا گیا اور یہودی قبرستانوں ہسپتالوں سکولوں اور گھروں کو لوٹا گیا جبکہ پولیس اور فائر بریڈ کی گاڑیاں دیکھتی ہی رہی سڑکوں پر بکھرے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں اور کرسیوں کی وجہ سے اس رات کو کرسٹل نائیٹ یعنی ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات کہا جانے لگا ۔ اس کے بعد کی صبح جرمنی کے 30 ہزار یہودی مردوں کو یہودی ہونے کے جرم میں گرفتار کر کے حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں افراد مر گئے کچھ یہودی عورتوں کو بھی گرفتار کر کے مقامی قید خانوں میں بھیج دیا گیا یہودیوں کے کاروباروں کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک کہ ان کا انتظام غیر یہودیوں کے ہاتھوں میں نہ دیا گیا ہو یہودیوں۔پر کرفیو لگا دیے گئے جن کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکلنے کے اوقات محدود ہو گئے ۔

jewish killed by nazi soldiers


یہ سب ان کی جرمنی کے خلاف سازشوں اور پرتشدد حملوں میں ملوث ہونے کے بعد کیا جا رہاتھا دو نومبر پیرس میں 1938 میں ایک جرمن سفارت کار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا یہودیوں کی نشاندہی کر کے انہیں سرکاری عہدوں سے بندر کے چانسلر بننے کے دو مہینے بعد اپریل 1933 میں منظور کیے جانے والے قوانین کے ساتھ انتظامیہ کی تطہیر شروع ہو گئی ان قوانین کے مطابق جن ملازمین کے والدین یا دادا دادی نانا نانی یہودی تھے انہیں اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ 17 اگست 1938 یہودیوں کے لیے یہودی نام اپنانا لازمی قرار دے دیا گیا جرمنی کی حکومت نے ان تمام یہودیوں کے لیےجو اپنے پہلے ناموں سے فوری طور پر یہودی ظاہر نہیں ہوتے تھے اپنے پہلے نام کے بعدایک یہودی نام کا اضافہ کرنا روری قرار دیا گیا مردوں کو اسرائیل اور عورتوں کوسارا کا نام دیا گیا مرد اپنے نام کے ساتھ اسرائیل لگائیں گے اور عورتیں اپنے نام کے ساتھ سارا لگائیں گی تاکہ پتہ چلے کہ وہ یہودی ہیں۔ اکتوبر میں جرمن حکومت نےیہودیوں کے تمام پاسپورٹ ضبط کر لیے یہودیوں کو جاری کیے جانے والے نئے پاسپورٹ پرجے کا ٹھپہ لگایا گیا جو کہ یہودی شناخت کی نشاندہی کرتا تھا 19 ستمبر 1941 جرمنی میں یہودیوں کی شناخت کے لیے بیج متعارف کروایا گیا چھ سال کی عمر سے زائد یہودیوں کو تمام اوقات اپنے کپڑوں پر ایک پیلے رنگ کا چھ نقطوں والا ستارہ پہننا ضروری ٹھہرایا گیا جس پر کالے حرفوں میں چوٹ لکھا گیا تھا جو جرمن زبان میں یہودی کہلاتا تھا اب جرمنی میں جوتیوں کو دیکھ کر ہی پہچانا جا سکتا تھا اکتوبر میں یہودیوں کی جرمنی سے باقاعدہ جلاوت شروع ہو گئی مارچ 1942 میں یہودیوں کے لیے اپنی رہائش گاہوں پر بھی تارے کی علامت کی نمائش کرنا ضروری ہو گیا ۔

jewish people checking prade


ہجرت

 تقریبا 1930کی دہائی کے آخر تک یہودیوں کے لئے  پناہ گزین ممالک کی تلاش اولین ترجیع تھی۔ وہ لوگ جو ویزا حاصل کر سکتے تھے اور سخت کوٹے کےباوجود بھی اہل ہو کر امریکہ چلے گئے۔ بہت سے یہودی فلسطین چلے گئے، جہاں یہودیوں کی چھوٹی برادری  پناہ گزین یہودیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار تھی۔ پھر بھی دوسرے یہودیوں نے پڑوسی یورپی ممالک میں پناہ مانگی۔ اور زیادہ تر ممالک مہاجرین کی بڑی تعداد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

jewish migrating from germaney


نتیجہ؛

ایک دفعہ ہٹلر نے کہا تھا کہ میں نے 70 فیصد یہودیوں کو مار دیا ہے اور 30 فیصد کو زندہ چھوڑا ہے تا کہ بعد میں تمہیں پتا چل سکے میں نے انہیں کیوں مارا،اور اس وقت تم یہ خواہش کرو گے کہ کاش میں میں ان بقایا 30 فیصد کو مار دیتا۔

یہودیوں کی یہ نسل کشی ہولو کاسٹ کہلاتی ہے ہولو کاسٹ ایک لفظ ہے جس کے استعمال پر پابندی ے دنیا کے 13 ممالک ایسے ہیں جن میں اگر یہ لفظ بولتے یا استعمال کرتے ہیں جب کسی تحریرمیں لکھتے ہیں تو آپ کو تین سے 10 سال کی سزا آپ کو ہو سکتی ہے اگر اپ سوشل میڈیا پر اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو آپ کا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے گا یہودیوں نے اس لفظ کا بڑا ناجائز فائدہ اٹھایا مظلوم بنے اور اس نسل کشی کا اتنا جلسہ کیا کہ ساری دنیا یہاں تک کہ جرمن بھی یہودیوں سے مل کرآج تک آنسو بہاتے ہیں۔

اگر موجودہ فلسطین کی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہودیوں کے بارے میں ہٹلر کا نظریہ بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے۔ ہٹلر کے خیال میں یہودی ایک ایسی قوم ہے اپنے ذاتی مفادات اور اپنی حکومت کے قیام کے لئے کسی بھی حد تک جا سکےہیں۔ 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.