Type Here to Get Search Results !

Ads

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

 

two people talking to each other


میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔

مجھے کسی بادشاہ نے قیدی ہونے کی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید میں قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری تلاش میں قید میں کہا گیا کہ میں ایک گھر سے مجھے اعلیٰ نسل سے نوازتا ہوں۔ گھوڑوں سے پھانسی کی جائے گی۔

(اس میں میرے پھانسی کے تخت پر بندھ کر گھوڑے کو دوڑایا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی۔ مکمل تلاش نہیں ہوئی۔

بادشاہ نے گھوڑے کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ بات ہے گھوڑے کے مالک نے سچ کہا ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرے میں گڈھے کا ملاپ شامل ہے بادشاہ حیران ہو کر قیدی سے پوچھتے ہیں کہ یہ بات کیسے چلی؟ گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں۔

قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے تھا جبکہ جو ملاپ گدھے کا ہے وہ گڈھے کی طرح کبھی پہاڑی ٹانگ مارا منہیر کبھی اچھل کر پھٹ جائے جس سے مجھے علم ہوا قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا۔ اور قیدی کی پھانسی منسوخ کر کے اپنے وزیر نے کہا کہ اسے ایک روٹی میں شامل کر دیا جائے۔

کچھ دن بعد بادشاہ کے دربار میں ایک سنار ہی لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کو کہا کہ اگر آپ کو رعایا میں کوئی یہ بتا دے کہ ان میں کون سا ہیرا اصلی کون ہے اور اس کی اصلی نقل اور فرق بتا دے گا۔ میں آپ کو دونوں ہی انعام میں دوں گا۔

بہت سے لوگوں نے پوچھا لیکن کوئی مکمل جانچ نہ کر سکے بادشاہ کے دماغ میں قید کا خیال آیا اس نے اس بادشاہ کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دے دیا۔ دئیے گئے قید میں کچھ لمحوں میں بتا دیا کہ ایک اصلی اور دوسرا نقل کیا ہے کہ بادشاہ نے کیسے پتہ چلا؟

قیدی نے کہا کہ اصلی ہیرا ررگ سے کبھی گرم نہیں ہوتا ہے جبکہ ہیرا رگ سے گرم ہو جاتا ہے وہ دونوں ہیرے بادشاہ کو انعام دے دیتے ہیں اور چلتے ہیں۔

بادشاہ قیدی کی دانائی اور ایک سے زیادہ خوش ہوا اور ایک روٹی پر سپاہی نے کہا کہ دوہر کو جب سپاہی قیدی کو ایک اور روٹی کے ساتھ بہت زیادہ سزا دینے کے لیے آئے تو قیدی کی بادشاہی بھی کسی لانگی کا پتی سپاہیوں نے قید کر دی۔ یہ بات بادشاہ تک بادشاہ کو غصہ آیا اور سپاہیوں سے قیدی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم

اور قیدی سے اس بات کی وضاحت مانگی گئی ہے کہ قیدی بادشاہ کو اپنے خاندان کے بارے میں کسی سے پتہ کرو

بادشاہ سیدھا اپنی ماں کے پاس گیا اور اس کو ساری بات بتا کر اپنے خاندان کے باری میں سچ بتانے کا کہا۔ اس وادہ نے کہا کہ اس قیدی نے سچ کہا، جب ہمارے ہاں بہت کچھ ہوا تو ہم کسی بچے کی پیدائش نہ ہونے پر ایک نا بائی سے گود گئے تھے کہ ہم اس سلطنت کو بغیر کسی وارث کے چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ کسی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ بات نہیں کرے گا اور یہ ملک چھوڑ کر چلا جائے گا لیکن پہلے اسے اتنا مال و دولت دے دیا گیا تھا کہ ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ و دولت تمھارے بدلے میں نہیں دیا تھا بلکہ یہ اس نیکی کا صلہ تھا جو اس نے ہمارے ساتھ کیا تھا اور اس کے بعد بادشاہ نے قیدی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیسے پتہ چلا کہ لانگری کا بیٹا۔

قیدی نے کہا کہ میں نےجتنی حکمت اور دانائی کی بات  آپ کو بتائیں اس کے بدلے میں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مجھے آزاد کرتے اور جواہرات اور انعام دینے کے بجائے آپ نے ہر بار میری روٹی میں اضافہ  کیا اور کوئی بھی خاندانی بادشاہ اس طرح نہ کرتا  ۔آپ کی انہی باتوں سے مجھے آپ کی نسل اور خاندان کا پتا چلا ہے۔

 انسان اپنی شہرت کی شکل سے نہیں بلکہ اپنی حرکتوں سے اپنی نسل کا پتا بتادیتا ہے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.