جارڈن کا ایک یہودی جو کہ ایک ربی تھا ، پیرس میں اسلام پر تحقیق کر رہا تھا اور اس کی تحقیق کا پہلو مسلمانوں کی شدت پسندی تھا ۔ اس کی تحقیق کا دورانیہ 5 سال تھا۔اپنی تحقیق کے اختتام پر اور پیپر لکھنے کے بعد جب اس سے اس کی تحقیق کی فائںڈنگ یا نتیجہ پوچھا گیا تو اس نے بتایاکہ
مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں ، یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر لیں گے لیکن یہ اپنے نبی ﷺ کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے۔
اس یہودی کی ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے ، جب بھی اٹھے ، جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی کی ذات تھی ۔ اس نے کہا کہ آپ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں یا ان کی حکومت ختم کر دیں ۔قرآن کی اشاعت روک دیں یا ان کا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کر جائیں گے لیکن جونہی آپ نبی ﷺ کا نام غلط لہجے میں لیں گے یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا وقت کے فرعون یہ آپ سے ٹکرا جائیں گے۔
اس یہودی نے کہا کہ میری تحقیق کے مطابق جس دن مسلمانوں کے دل میں نبی کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا ۔چنانچہ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہو تو مسلمانوں کے دل سے نبی ﷺ کی محبت کو ختم کر دو ۔
اگر سوچا اور سمجھا جائے تو اس یہودی کی پانچ سالہ تحقیق کا نچوڑ انہی دو فقروں میں تھا اور انہی دو فقروں میں اس نے پورا اسلام سمجھا دیا ۔ نبی ﷺ کی محبت ہی اسلام کی اصل روح ہے اور جس دن یہ روح ختم ہو گئی تو اس دن یہودیوں اور عیسائیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
نبی کا فرمان عالی شان ہے کہ تم میں سےکسی شخص کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کی آل اولاد ماں باپ عزیز رشتہ دار مال و دولت غرض کہ سب سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں ۔
