Type Here to Get Search Results !

Ads

عالمی جنگ کی صورت میں دنیا کے محفوظ ترین ممالک

 

ّWorld Map


تعارف؛

 کسی نے کبھی سوچا ہے کہ اگر خدا نخواستہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے تو رہیں گے کہاں یا کون سے جگہ محفوظ ہو گی؟  ظاہر ہے سوچتے ہی ہوں گے ۔تو اب سوال یہ کہ اگر ایسا ہو گیا تو دنیا کی وہ کون سے محفوظ ترین جگہ ہو گی جو جنگ کے ان اثرات سے محفوظ ہو گی ۔لیکن لگتا نہیں کہ ہماری یہ خواہش پوری ہو گی کیونکہ دیا کی موجودہ صورتحال کچھ اور ہی کہہ رہی ہے، آگ اور بارود کے دھوئیں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں باقی ساری دنیا جل رہی ہے وہی کچھ ممالک اس ساری تباہی سے بالکل محفوظ ہیں اور اگرتیسری جنگ عظیم  شروع ہو گئی تو یہ چار ممالک رہنے کے لیے سب سے محفوظ مقام ہوں گے۔

سوئٹزرلینڈ

Switzerland Map

اٹلی اور آسٹریہ میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا لینڈ لاؤکٹنری ہے سوئٹزرلینڈشاید دنیا کا سب سے غیر جانبدار ملک ہے اتنا غیر جانبدارکے پچھلے دو سو سال میں  سوئٹزرلینڈ نے ایک بھی جنگ نہیں لڑی اس نے آخری جنگ نپولین کے خلاف اٹھارہ سو پندرہ میں لڑی تھی۔ یورپ میں ہونے کے باوجود سوئٹرز لینڈنہ تو یورپی یونین کا ممبر ہے اور نہ ہی نیٹو کا حصہ ہے سوئٹرز لینڈ ورلڈ وار تھری میں  کس طرح محفوظ ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی جغفرائیائی  حدود۔سوئٹرزلینڈ کو اگر ہم تین حصوں میں تقسیم کریں تو جنوب میں ہے سوئس آلپس ایک بہت بڑی پہاڑی سلسلہ ہے جو اسے اٹلی اور آسٹریہ سے علیحدہ کرتا ہے مغرب اور شمال میں جورا ماؤنٹین رینج ہے جو اسے فرانس سے  علیحدہ کرتی ہے اور درمیان میں ہے سوئس پلیٹو جہاں سوئٹزرلینڈ کی  زیادہ تر آبادی رہتی ہے اور یہ ایک بہت زبردست منصوبہ کے تحت کسی بھی جنگ کی صورت میں سوئس آرمی یہ ریاستیں چھوڑ کر  جنوب میں موجود ایلپائن ریجن میں چلی جائیں گی۔ ان پہاڑوں پہ سوئٹرزلینڈ نے 26000 بنکرز، انٹی ایرکرافٹ گنز اور مشین گنز ڈپلوئی کی ہوئی ہیں۔ یہ جگہ  اتنی محفوظ ہے کہ آسمان سے اس کو  نشانہ بنانا بہت مشکل ہے اور زمین سے اسے ٹارگیٹ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ

 ہر روڈ، بریج اور ٹنل کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں صرف ایک ریموٹ کنٹرول بٹن سے انہیں اڑیا جا سکتا ہے جس سے کسی بھی باہر کی آرمی کے لیے سوئٹزرلینڈ میں موو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا دوسری چیز جو سوئٹرزلینڈ کو اتنا  محفوظ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ سوٹسرلینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس اتنے زیادہ نیوکلیر شیلٹرز ہیں جو کہ کسی دوسرے ملک  میں موجود نہیں ہیں۔

سوئٹرزلینڈ میں 1978 کے بعد یہ قانون بن چکا ہے کہ ہر رہائشی بلڈنگ میں نیوکلیر شیلٹر ضرور ہوگا جو تقریباً 12 میگاٹن کا بلاسٹ برداشت کر سکے سوئٹڑزلینڈ کی نیوکلیر شیلٹر کپیسٹی 114 فیصد ہے مطلب صرف اپنے ہی نہیں بلکہ باہر سے 14 فیصد اور لوگ بھی آ جائیں تو یہ شیلٹر انھیں بھی پناہ دے سکتے ہیں۔تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیوکلئیروار بھی سوئٹڑزلینڈ کو کچھ نہیں کر سکتی اور اسی لیے کسی نے کہا تھا کہ اگر دنیا میں نیوکلیور وار ہوئی تو صرف تین چیزیں بچیں گی کچھ ممالک کے صدر، کاکروچیز اور 86 لاکھ کی سوئس آبادی۔

فجی

World Map


 دوسرے نمبر پہ آتا ہے فیجی ساوتھ پیسفک اوشن میں اوسٹریلیا سے تقریباً 1700 میل دور یہ ہے پیسفک اوشن کا سب سے ڈیولیپڈ آئیلینڈ  کسی بھی ایسے اہم وسیلے سے محروم ہے جس سے یہ دنیا کی سوپرپاورز کی نظر میں آئے فیجی کی کوئی دوران جنگ کی منصوبہ بندی بھی نہیں ہے اور اس کے پاس صرف 6 ہزار لوگوں کی آرمی ہیں دوسری چیز جو فیجی کو سیف بناتی ہے وہ ہے اس کی ڈیپ لوکیشن ہےیہ ایشیا، امریکہ، یورپ اور افریقہ وغیرہ سے اتنا دور ہے کہ باقی دنیا میں ہونے والی جنگ کے سائیڈ ایفیکٹس اس تک پہنچیں گے ہی نہیں۔ فیجی اتنا دور ہے کہ اسے سمندری راستے سے تسخیر کرنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ اس کے آس پاس تین سو اور جزیرےہیں جن کو ایک ہیوی آرمی کے ساتھ کراس کرنا انتہائی مشکل کام ہے فیجی کی اکانومی بنیادی طور پر ٹوریزم اور زراعت پر چلتی ہے  عالمی جنگ کی صورت میں اگر ٹوریزم ختم بھی ہو جائے تو فیجی کے پاس بہت زیادہ زرعی زمین ہے اور سمندری خوراک کی بھی لا محدودسپلا ئی ہے جس کی بہت زیادہ دکت نہیں ہوگی ہاں پر یہاں بر رہنے کا صرف ایک مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ دنیا سے اتنادورہوں گے کہ عالمی جنگ کون جیت رہا ہے یہ جاننا آپ کے لیے شاید بہت مشکل ہوگا۔

نیوزی لینڈ

Worldmap


تیسرے نمبر پر آتا ہے نیوزی لینڈ ۔فیجی سے کچھ ہی میل دور نیوزی لینڈ ہے جو کہ عالمی امن و امان کی لسٹ  کے مطابق  تیسری عالمی جنگ کی صورت میں دنیا کا سب سے محفوظ ملک ہے۔اور دنیا کا دسواں سب سے خوشحال ملک ہے۔

اور اور وسائل سے مالا مال ہے ۔اگر لوکیشن کی بات کریں تو نیوزی لینڈ فیجی سے بھی 1600 میل دور  جنوب میں ہے یعنی ورلڈ وار کے ایکشن سے اور بھی زیادہ دور دوسرا نیوزی لینڈ کے جنوب میں سدرن ایلپس کی ماونٹین رینج ہے جو کسی بھی بیرونی حملے کے  نتیجے میں اسے ایک قدرتی تحفظ دیتی ہے تیسرا نیوزی لینڈ کی پیسفل فارن پالیسی بھی یہ گارنٹی کرتی ہے کہ وہ کسی بھی ورلڈ وار کوئی بہت زیادہ استرٹیجی کی امپورٹنس نہ ہونے کی وجہ سے بھی نیوزی لینڈ دنیا کے باقی ممالک کے لیے کی صورت میں کوئی ایسا انعام بھی نہیں جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ اتنی  تلیف اٹھا کر اس پہ حملہ کریں۔

آئس لینڈ

Worldmap


آخری نمبر پر آتا ہے آئیس لینڈ ۔یوکے اور باقی یورپ سے ایک ہزار میل دور یہ ہے قدرتی ریسورسز اور خوبصورت نظاروں سے مالا مال اٹلانٹک اوشن کا دوسرا سب سے بڑا جزیرہ  جو کہ اسے  ایک انتہائی محفوظ ملک بناتی ہیں۔ سب سے پہلے تو اس کی لوکیشن ہے۔ یہ یوکے اور باقی یورپین  ممالک سے اتنا دور ہے کہ ڈائریکٹ وار کی صورت میں اس کی طرف کسی کا دھیان بھی نہیں جائے گا۔ اور دوسرا آئس لینڈ کے پاس اتنے زیادہ رینیویبل انرجی سورس ہیں کہ یہ اپنی سو فیصدانرجی خود ہی جنریٹ کرتا ہے۔ آئس لینڈ کے پاس اصل میں بہت زیادہ جیو تھرمل انرجی ہے۔تو جہاں باقی کنٹریز ورلڈ وار کے دوران انرجی کرائسز میں گھرے ہوں گے وہی آئس لینڈ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اس کے علاوہ آئس لینڈ کے پاس بہت زیادہ خالی زمین بھی ہے بلکہ جدید شماروں  کے مطابق آئس لینڈ میں ہر سکوائر کلومیٹر پر صرف آٹھ لوگ رہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں بہت سارے پناہ گزین یہاں سما سکتے ہیں۔تو  انرجی اور خوراک کی کمی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملک بھی ورلڈ وار کی صورت میں بہت آرام سے اور لمبے عرصے تک رہ سکتا ہے۔

 اب آخر میں ہم امید تو یہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک بار پھر ورلڈ وار والی غلطی نہیں دوہرائے گی جس میں کروڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اکانومیز برباد ہو گئیں اور بدلے میں کچھ حاصل بھی نہیں ہوا لیکن موجودہ حالات کسی اور طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.