Type Here to Get Search Results !

Ads

نیوکلیئر آبدوزوں: ایک مہلک انسانی ایجاد

Neuclear Submarine on sea surface


 تعارف؛ آبدوزوں کا ارتقاء

دوسری جنگ عظیم کے دوران پانچ میگا ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔  ایک ٹرائیڈنٹ ٹومیزائل 12 ایٹمی وار ہیڈ لے جا سکتا ہے، اور ہر ایک میں پانچ میگاٹن ایکسپلوزو ہوتا ہے۔ مزید برآں، ایک جوہری آبدوز 24 ٹرائیڈنٹ میزائل رکھ سکتی ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں، کوئی ہتھیار ان آبدوزوں جیسا خطرناک اور مہلک نہیں رہا۔ ان کی پوشیدگی نفسیاتی طور پر دشمنوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جو ایک مستقل خطرے کی نمائندگی کرتی ہے۔آپ تصور کریں کہ ایک آدمی مزے سے سمندر میں تیراکی کر رہا ہے اور اس کے ٹھیک نیچے 48,000 ٹن ایٹمی آبدوز موکود ہو جو ایک ہی کمانڈ سے آدھی سے زیادہ دنیا کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم بے پناہ تباہ کن صلاحیت کے اس مقام تک کیسے پہنچے؟

Pic of Trident II Missile


 آبدوز کی ابتدائی ترقی

پانی کے اندر جہازوں کا تصور لیونارڈو ڈاونچی کا ہے، جس نے سب سے پہلے ایک ایسے جہاز کا خاکہ بنایا جو سمندر کے نیچے جا سکتا تھا۔ 1775 میں، ایک ڈچ سائنسدان نے ایک زیر سمندر کشتی بنائی جسے ٹرٹل بورڈ کہا جاتا ہے، جو انسانی تاریخ کی پہلی آبدوز تھی۔ 19ویں صدی میں مزید ترقی ہوئی، لیکن تمام آبدوزوں کو ایک اہم مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا: انہیں سمندری جہازوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہوا کی ضرورت تھی، یہ نظام پانی کے اندر دستیاب نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، جرمن آبدوزوں کو اپنے انجنوں کے لیے ہوا پکڑنے کے لیے ہر 48 گھنٹے بعد سطح پر آنا پڑتا تھا، جس سے پوشیدگی اور چھپنے کا عنصر ختم ہو جاتا تھا۔

بیسویں صدی میں تکنیکی ترقی

بیسویں  صدی نے صنعتی انقلاب کے بعد تکنیکی ترقی کی جس کے نتیجے میں تیزی سے خطرناک ہتھیاروں کی ترقی ہوئی۔ جرمنی کی دوسری جنگ عظیم ہارنے کے بعد، اس کی یو بوٹ آبدوزیں امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین کے ہاتھ لگ گئیں۔ سپر پاورز نے زمین کے ساتھ ساتھ سمندروں پر غلبہ حاصل کرنے کی تزویراتی نزاکت اور اہمیت کو تسلیم کیا۔

اور 1950 کی دہائی میں، سائنسدانوں نے ایٹم کو تقسیم کرکے جوہری توانائی دریافت کی، ایسا عمل جس میں ہوا کی ضرورت نہیں تھی۔ اس دریافت نے امریکی بحریہ کے افسر ہرمن ریک اوورنے آبدوزوں میں جوہری ری ایکٹر استعمال کرنے کی تجویز پیش کی، جس سے وہ ہوا کے لیے سرفیس کیے بغیر پانی میں رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایٹمی ری ایکٹرز کے آبدوز میں کامیاب استعمال نے آبدوز کی صلاحیتوں میں انقلاب برپا کر دیا۔

جدید ایٹمی آبدوزیں

نیوکلیئر ری ایکٹر آبدوزوں کو طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے کے قابل بناتے ہیں، لیکن پھر بھی   انہیں خوراک اور رسد کی سپلائی حاصل کرنے کے  لیے ہر تین ماہ بعد دوبارہ سرفیس پر آنا پڑتا ہے۔ یہ آبدوزیں شور کو کم کرنے والی ٹکنالوجی سے لیس ہیں، جیسے سونار کو ویوز کو گمراہ کرنے کے لیے ربڑ کی کوٹنگز اور اسٹیلتھ کو برقرار رکھنے کے لیے جہاز پر ساؤنڈ پروفنگ۔

آبدوز کے عملے کا بیرونی دنیا کے ساتھ محدود رابطہ ہوتا ہے،اور انکے فرائض نہایت کٹھن اور بھرپور ذہنی صلاحیت کو اجاگر کرنے والے ہوتے ہیں اسی لئے ان کو ہر طرھ کی سہولیات بہم پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تہ کہ وہ ذہنی طور پر چاک و چوبند رہیں اور اپنے فرائض کو احسن طریقے سے سرانجام دیں جیسا کہ ان کے کھانے کا انتظام اور معیار عام بحریہ کی نسبت بہت بہتر ہوتا ہے،  آبدوز پر موجود عملے کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کے لئے ایک مخصوص ایک میل ایڈریس دیا جاتا ہے اور ان کےحوصلے کو برقرار رکھنے کے لیے اور سیکورٹی اقدامات کے پیش نظر  آنے والے تمام پیغامات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور عملے کو ان کے گھر یا اہل خانہ کے متعلق کوئی بھی ناگہانی خبر انکی شفٹ کے دوران نہیں دی جاتی۔  ان آبدوزوں کے کمانڈر ایک محفوظ کیبن میں موجود خفیہ ہدایات کی بدولت اپنے ملک پر ایٹمی حملے کی صورت میں احکامات کا انتظار کیے بغیر ایٹمی حملہ کر سکتے ہیں اور اس بات کی ان کو مکمل اتھارٹی اس خفیہ دستاویز میں دی جاتی ہے۔

Strusture of neuclear Submarine


روک تھام کا اثر

ایٹمی آبدوزوں کی موجودگی ایک طاقتور ڈیٹرنٹ کے طور پر کام کرتی ہے، جو ممالک کے درمیان ایٹمی حملوں کو روکتی ہے۔ روس اور امریکہ کے پاس جوہری ہتھیاروں کے وسیع ذخیرے کے باوجود، ان آبدوزوں کا وجود ایک باہمی یقینی تباہی کے منظر نامے کو یقینی بناتا ہے، جس سے پہلے حملوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ چین بھی اسی طرح کی دفاعی حکمت عملی اپناتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس جنگی جہازوں کے برعکس، جنہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جوہری آبدوزیں پانی کے اندر خاموشی سے سفر کرتے ہوئے ناقابل شناخت رہتی ہیں اور ان کی یہی خوبی دشمن پر ایک نفسیاتی دباو رکھتی ہے اور یہی بات ایٹمی آبدوزوں کے حامل ممالک کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رکھتی ہے ۔

جدید جنگ میں آبدوزوں کا کردار

آبدوزیں بھی مواصلات میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، پانی کے اندر کیبلز انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور کثیر مواصلات کے لیے ضروری ہیں۔ حال ہی میں، امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بحریہ کے ساتھ مل کر بحر الکاہل کے نیچے روسی مواصلاتی کیبلز کو روکنے کا منصوبہ بنایا۔ اس آپریشن نے سوویت دور کی تاروں کا انکشاف کیا، جس سے سوویت یونین کی بحری حکمت عملی امریکیوں کے سامنے آ گئی اور ان کیبلز کی مدد سے انفارمیشن لینے کا یہ سلسلہ تقریبا 8 سال تک جاری رہا بعد ازاں امریکی انٹیلیجنس کے ایک رکن نے ایک مخصوص معاوضے کے بدلے میں یہ انفارمیشن سوویتس کو بتا دی اور انہنوں نے اس کا سد باب کیا۔

Neuclear Submarine Firing Missile under water


نتیجہ

جدید ایٹمی آبدوزوں کی تباہ کن صلاحیتیں حیران کن ہیں۔ ایٹمی آبدوز سے داغے گئے میزائل میں جاپان پر گرائے گئے ایٹم بم سے 12 گنا زیادہ تباہ کن طاقت ہے اور ہر آبدوز ایسے 24 میزائل لے جا سکتی ہے۔ یہ آبدوزیں انسانیت کی باہمی تباہی کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پھر بھی، وہ قابل ذکر تکنیکی کارنامے حاصل کرنے کی ہماری صلاحیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جیسے ہوا تک رسائی کے بغیر مہینوں پانی کے اندر رہنا۔

یہ بیانیہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح طاقت اور کنٹرول پر ہماری توجہ نے تکنیکی ترقی کو شکل دی ہے۔ ایک ایسی دنیا کا تصور کریں جہاں ہم غربت کے خاتمے اور بیماری کے علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح کی تبدیلی انسانی کوششوں میں غیر معمولی پیشرفت کا باعث بن سکتی ہے، ایک ایسے مستقبل کو فروغ دے سکتی ہے جہاں ہماری عظیم ترین کامیابیاں زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے بہتر بنانے کے لیے وقف ہوں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.