Type Here to Get Search Results !

Ads

سود قرآن و حدیث کی نظر میں


Pic Of Quran Karim and Masjid Ul Haram


تعارف

اسلام میں سود کسی بھی چھوٹی یا بڑی حالت میں قطعی قابل قبول نہیں ہے۔عرب میں تجارت اور سود مِں تفریق نہیں کرتے تھے۔اسلام میں سود کے بارے میں بہت سخت وعید بیان کی ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے

اَحَلَّ اللهُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔

(البقرة، 2: 275)

’’الله نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سور کو حرام کیا ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

یَمْحَقُ اللهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ.

(البقرة، 2: 276)

’’الله سود کو مٹاتا ہے (یعنی سودی مال سے برکت کو ختم کرتا ہے) اور صدقات کو بڑھاتا ہے (یعنی صدقہ کے ذریعے مال کی برکت کو زیادہ کرتا ہے)۔‘‘

اس آیت کریمہ میں سود اور صدقات کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سودی معیشت سے چھٹکارے کا ذریعہ اسلام کا نظامِ صدقات ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے۔ اگر ان صدقات کو ایک نظام کا حصہ بنایا جائے اور صدقات بینک کی صورت میں پروان چڑھایا جائے تو نہ صرف سودی معیشت سے چھٹکارہ مل سکتا ہے بلکہ غربت کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

الله رب العزت نے ایک اور مقام پر وارننگ دیتے ہوئے فرمایا:

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَ رَسُوْلِهٖ.

(البقرة، 2: 279)

’’پھر اگر تم باز نہ آئے تو الله اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہو جاؤ۔‘‘

سودکی نحوست کا اندازہ اس اندازِ بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سورۂ بقرہ میں وارد ہونے والی ان آیاتِ کریمہ میں الله رب العزت نے نہ صرف سود کی ہر شکل کو کلیتاً حرام قرار دیا بلکہ سودی لین دین کرنے والوں کو الله اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ کرنے والے قرار دیا۔

احادیث رسول ﷺ میں بھی سودخوری کو مکمل طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا عبدالله بن مسعودؓ سے روایت ہے:

أن النبي ﷺ قال: الربا بضع وسبعون باباً والشرک مثل ذلک.

(مسند بزار، 5: 318، رقم: 1935)

’’سود کے ستر سے زیادہ درجے ہیں اور شرک بھی اسی طرح (گناہ میں اس کے برابر) ہے۔‘‘

ایک اور حدیث مبارکہ میں سخت وعید آئی ہے، فرمایا:

الربا سبعون باباً أدناها کالذي یقع علی أمه.

(بیهقی، 4: 394، رقم: 3320)

’’سود کے ستر دروازے (ستر اقسام) ہیں، ان میں سے ادنیٰ ترین (قسم کا گناہ) ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے زنا کرے۔‘‘

سود ایک ایسی خطرناک معاشی برائی ہے جس کی ہلاکت کو آج بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ سود کے منفی نتائج انسانی زندگی کے ہر شعبے میں سامنے آئے ہیں۔ سود اپنے اندر…روحانی و اَخلاقی، معاشی و تمدنی، سیاسی اور معاشی…ہر قسم کے نقصانات لئے ہوئے ہے۔

سودی معیشت اَخلاقی و روحانی سطح پر یوں اثرانداز ہوتی ہے کہ سود یا سودی کاروبار میں ملوث ہونے سے انسان میں اَخلاقی پستی پیدا ہوجاتی ہے اور خود غرضی، حرص و ہوس پرستی، بخل، سنگدلی اور تنگ نظری جیسی برائیاں اُسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ سود انسان کو اعلیٰ انسانی اَقدار سے محروم کر کے خودغرضی جیسے گھٹیاپن کی طرف لے جاتا ہے، جو اِنفرادی اور اِجتماعی گراوٹ و تنزل کا باعث بنتی ہیں۔ اُس کے نتیجے میں معاشرہ عدم اطمینانی اور اِضطراب کا شکار ہو جاتا ہے اور یوں اَخلاقِ حسنہ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

سودی معیشت معاشرتی و تمدنی سطح پر یوں اثرانداز ہوتی ہے کہ مختلف ممالک بین الاقوامی تجارت اور اپنا نظامِ مملکت چلانے کے لئے معاہدات کرتے ہیں، جن میں مالی اِمداد اور قرضے وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر اُن میں سود کا عنصر شامل ہو جائے تو معاہد ممالک میں منافرت، خود غرضی، عناد اور حسد و رقابت کے جذبات فروغ پانے سے ایک سرد جنگ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ قرض خواہ اور مقروض ملک بظاہر تو ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں لیکن اُن میں ایک معاندانہ کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ چونکہ سود کے بالواسطہ اَثرات تمام عوام پر پڑتے ہیں اِس لئے مقروض ملک کے عوام میں قرض خواہ ملک کے لئے نفرت و حقارت کے جذبات سر اُٹھانے لگتے ہیں، جس کا اکثر نتیجہ اَمن کی پامالی کی صورت میں نکلتاہے۔ تاریخ اس ضمن میں بہت سے شواہد پیش کرتی ہے۔

سود معاشی میدان میں سب سے زیادہ نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ چند اہم معاشی نقصانات حسبِ ذیل ہیں:

غریب طبقہ کی مصیبتوں میں اِضافہ

عوام الناس کی قوتِ خرید میں کمی

اشیائے صرف کی قیمتوں میں اِضافہ

اِرتکازِ دولت

گردشِ دولت (Circulation of Money) میں کمی

تجارتی چکر اور کساد بازاری

قرضِ حسنہ کا خاتمہ

وسیع پیمانے پر معاشی اِستحصال

سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی

بچتوں (Savings) کا فقدان

بیروزگاری میں اِضافہ اِقتصادی ترقی میں رکاوٹ

ماہرین کی تخلیقی صلاحیتوں سے بے اِعتنائی اور مفت خوری کا اِجراء

تعیشات اور عیش پرست زندگی سے محبت جس سے سماجی برائیاں (Social Evils) جنم لیتی ہیں

غرض یہ کہ سود کے معاشی شعبہ (Economic Sector) میں اتنے دُور رَس مفسدات اور نقصانات ہیں، جنہیں تفصیل سے بیان کرنا یہاں طوالت کا باعث بنے گا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کے سائنسی اور علمی ترقی کے دور میں بھی اَصحابِ عقل و دانش سود کی برائیوں سے صرفِ نظر نہیں کر سکے، جبکہ تاریخ اور حالاتِ زمانہ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ سود پر مبنی معیشت جلد یا بدیر اِنحطاط، تنزل اور تباہی کا شکار ضرور ہوتی ہے۔

خلاصہ

اِسلام نے مذکورہ بالا اُمور کا آج سے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی اِدراک کیا اور اپنی اِلہامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی سود کے خاتمے کی طرف رغبت دلائی۔ اِسلامی معاشیات کے ماہرین نے قرآن و سنت کی روشنی میں جو اُصول و ضوابط بتائے اُن میں سود کی کوئی گنجائش نہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کے لئے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ اِنقلابی اِقدامات کے ذریعے سود سے پاک معیشت کا قیام عمل میں لائیں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.