نبی
مکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی راہ گزر پر نہ بیٹھا کرو ۔ ممکن ہے کوئی وہاں بیٹھ
جائے ہر گزرنے والے پر مسکرائے ۔ جو عورت گزرے اسے نازیبا باتیں کہے ۔ وہ اس وقت
تک وہاں سے نہ ہٹے گا جب تک اس پر دوزخ واجب نہ ہو جائے گی ۔ سوائے اس کے کہ وہ
توبہ کر لے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں ہر روز توبہ اور استغفار کرتا ہو ں
۔
آپ ﷺ
نے فرمایا : گناہوں سے توبہ کرنے والے کے گناہ فراموش کر دیے جاتے ہیں ۔ اس کے
ہاتھ پاوں اور اس جگہ سے نشانات مٹا دیے جاتے ہیں جہاں اس سے خطا ئیں ہوئیں تھیں ۔
حتی کہ جب وہ دیدار الہی سے مشرف ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی گواہ نہیں ہو تا ۔
آقا
کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی انسانو ں کی توبہ روح حلق تک پہنچنے اور غرغرہ پیدا
ہونے سے پہلے تک قبول فرما لیتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : اللہ
تبارک وتعالی کا دست کرم بڑا وسیع ہے جو ہر شب گناہ کر کے ہر شب توبہ کرے وہ اس کی
توبہ کو بھی قبول فرماتا ہے ۔ جو رات گناہ کر کے دن کے وقت توبہ کرے اللہ تعالی اس
کی بھی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ حتی کہ آفتاب مغرب ظہور پذیر ہوجائے ۔ حضرت سیدنا
عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : توبہ
کیا کرو میں ہر روز سو بار توبہ کرتا ہو ں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں
جو گناہ گار نہ ہو مگر بہترین گناہ گار توبہ کر لینے والے ہیں ۔ آپ ﷺ
نے مزید فرمایا : گناہ سے توبہ یہ ہے کہ تو دوبارہ اس کی طرف لوٹ کر نہ آئے ۔
