Type Here to Get Search Results !

Ads

ابلیس: عبادت سے لعنت تک

Iblis: From Worship to Damnation


طارانوس: ابلیس سے پہلے جنات کا اولین باپ

جنات کی تاریخ میں "طارانوس" کو ابلیس سے بھی ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل کا اولین جن قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی نسل میں موت اور بیماری کا کوئی تصور نہ تھا، یہ آتشی مخلوق اپنی فطری سرکشی میں مبتلا تھی۔ پیدائش کے 36 ہزار سال بعد پہلی بار فرشتوں کے ہاتھوں ان کی موت واقع ہوئی، جو درحقیقت موت کا پہلا واقعہ تھا۔

چلیپا اور تبلیث: غرور اور تباہی کا آغاز

"چلپانیس" اور پھر "ہاموس" کے دور میں جنات کی قوم نے ترقی کی۔ ہاموس کے ہاں پیدا ہونے والے "چلیپا" اور "تبلیث" نے اپنی بہادری سے پوری قوم میں شہرت پائی۔ چلیپا کو اس کے شیر جیسے سر کی وجہ سے "شاشین" کا لقب ملا۔ ان دونوں کی وجہ سے جنات کا غرور اس حد تک بڑھا کہ وہ تیسرے آسمان تک جا پہنچے اور وہاں شرارتیں کرنے لگے۔ بالآخر فرشتوں نے اللہ کے حکم سے انہیں عبرتناک شکست دی۔

ابلیس: عبادت اور علم کی معراج

ابلیس اپنی جوانی میں نڈر اور ذہین تھا، جس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری جمع تھی۔ اس نے فرشتوں کے ساتھ رہ کر توبہ کا اعلان کیا اور ان سے علم حاصل کیا۔ اس کی ریاضت اور عبادت کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر آسمان پر مختلف ناموں سے مشہور ہوا

پہلا آسمان: عابد
دوسرا آسمان: زاہد
تیسرا آسمان: بلال
چوتھا آسمان: والی
پانچواں آسمان: تقی
چھٹا آسمان: کبازان

ساتویں آسمان پر وہ "بقع نور" میں رہا اور ہفت افلاک کے تمام فرشتوں کا معلم قرار پایا۔

جنت کا خزانچی: ابلیس کا عروج اور زوال

ابلیس کو داروغہ جنت "رضوان" کی معاونت کا حکم ملا اور وہ جنت میں داخل ہوا۔ تقریباً 40 ہزار سال تک وہ جنت رضوان کی کنجیاں اپنے پاس رکھتا رہا۔ یہیں اس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس نے مختلف ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی باتیں کیں، مگر ان کے انکار پر خاموش ہو گیا۔

آدم علیہ السلام اور سجدے کا انکار

جب آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا تو ابلیس نے انہیں مختلف اقسام کی مٹی سے بنتے دیکھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ آدم اللہ کا نائب ہیں تو اس نے واویلا کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شیطان مردود قرار دے کر جنت سے نکال دیا۔

ابلیس کے پانچ ساتھی

ابلیس کے گمراہ کرنے کے کام میں پانچ شیاطین اس کے ساتھی ہیں

ثبر: مصیبتوں کے مواقع پر لوگوں کو واویلا کرنے پر اکساتا ہے

اعور: برائیوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے
مسوّط: جھوٹی خبریں پھیلاتا ہے
داسم: گھر والوں میں آپس میں نفرت پیدا کرتا ہے
زکنیور: بازاروں میں بددیانتی اور فحاشی پھیلاتا ہے

نتیجہ اور سبق

ابلیس کی کہانی سے واضح سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو محض ظاہری عبادت اور علم سے کوئی غرض نہیں۔ وہ دلوں میں موجود اطاعت اور فرمانبرداری دیکھتا ہے۔ تکبر اور غرور نے ابلیس کو اس کے بلند مقام سے گرادیا، جبکہ آدم علیہ السلام کی عاجزی اور فرمانبرداری انہیں اشرف المخلوقات بنا گئی۔

حاصل کلام: تقویٰ اور پرہیزگاری ہی وہ صفات ہیں جو انسان کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔


تحریر: اسلامی تاریخ اور متعدد معتبر کتب کے حوالاجات پر مبنی
مآخذ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، تفسیر کبیر امام رازی، نہج البلاغہ اور دیگر معتبر کتب


تحریر: اسلامی تاریخ اور متعدد معتبر کتب کے حوالاجات پر مبنی
مآخذ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، تفسیر کبیر امام رازی، نہج البلاغہ اور دیگر معتبر کتب

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.