Type Here to Get Search Results !

Ads

حدیث نبویﷺ اور جدید سائنس: صحت کے حیرت انگیز راز


Sleem Timming in Islam


تعارف و تفصیل

آپؐ نے فرمایا  نماز فجر، اشراق، عصر، مغرب اور عشا کے دوران سونے سے باز رہا کرو آج میڈیکل سائنس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کرہ عرض پر فجر اور اشراق کے دوران آکسیجن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اگر ہم اس وقت سو جائیں تو ہماری طبیعت میں بوجھل پن آ جاتا ہے ہم آہستہ آہستہ چڑ چڑے اور بیزار ہو جاتے ہیں عصر سے مغرب اور مغرب سے عشا کے درمیان آکسیجن کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے


ہم اگر اس وقت سو جائیں تو ہمارا جسم اکسیجن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم دس مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ دس بیماریوں میں دمہ بھی شامل ہے۔ لہذا یہ اوقات سو کرنا گزاریں۔ آپ پوری زندگی صحت مند رہیں گے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ بدبودار اور گندے لوگوں کے درمیان نہ بیٹھا کرو۔ یہ حکم بھی حکمت سے لبا لب ہے۔ بدبو انسان کو ڈپرس کرتی ہے جبکہ خشبو ہماری توانائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔


انسان اگر روزانہ دس منٹ بدبودار اور گندے لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دے تو یہ بیس دنوں میں ڈپریشن کا شکار ہو جائے گا۔ آپﷺ نے شاید اسی لئے ہمیں بدبودار لوگوں سےدور رہنے کا حکم دیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے درمیان نہ سویں جو سونے سے پہلے بری باتیں کرتے ہیں۔ یہ فرمان بھی حکمت کے عین مطابق ہے۔


خلاصہ کلام

یہ بلاگ پوسٹ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کی تعلیمات مکمل طرز حیات کا احاطہ کرتی ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کی احادیث مبارکہ میں صرف روحانی ہدایات ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی قیمتی رہنمائی موجود ہے، جس کی تصدیق آج کی جدید سائنس بھی کر رہی ہے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.