ارشاد باری تعالی ہے کہ "تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کئے گئے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو۔"
رمضان المبارک کا مہینہ حق تعالی کی طرف سے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا
انعام ہے مگر جب ہی جب اس انعام کی قدر بھی کی جائے ۔
حدیث نبوی ﷺ ہے کہ "لوگوں
کو اگر ،معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت کی یہ تمنا کرے کہ سارا
سال ہی رمضان ہو جائے "۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ سارا سال روزے رکھنا ایک طرف
مگر حدیث مبارکہ کے مطابق رمضان کے روزوں کا اجر و ثواب ایک طرف ہے۔
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمھارے اوپر
ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات ہے
(شب قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا
اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے، جو شخص اس مہینہ
میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے، ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض
ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے
اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے، اس مہینہ
میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزه دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے
خلاصی کا سبب ہو گا، اور روزہ دار
کے
ثواب کی مانند اس کو ثواب ہو گا، مگر اس روزہ دار کے ثو اب سے کچھ کم نہیں کیا جائےگا۔ صحابہ اکرام نے عرض
کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ( پیٹ بھر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ عز و جل ا ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ
آگ سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام (و خادم) کے بوجھ کو حق
تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں اور چار چیزوں کی
اس میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی
ہیں کہ جن سے تمھیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ
کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو
اور آگ سے پناہ مانگو، جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے تو حق تعالی شانہ اس کو روز محشر حوض کوثر
سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی۔
