Type Here to Get Search Results !

Ads

زندگی کا آغاز۔قرآن کی روشنی میں اور۔سائنس کی تصدیق

Showing the time line of earth with images


زندگی کا آغاز

زندگی کا آغاز کہاں کب اور کیسے ہوا؟ انسان کا نامعلوم زمانوں  سے اس کاحل ڈھونڈنے میں مصروف رہا ہے لیکن وہ ابھی تک کسی قطعی اور حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا ہے۔ تاہم زمین شناسوں کی اکثریت درج ذیل نتائج پر پہنچی ہے۔

اول ؛ شروع میں ارض و سماء کا ہیولی ایک تھا۔ اور یہ خلاء میں دھوئیں کی طرح اڑ رہا تا۔ پھر نہ جائے کیا ہوا کہ اس دھوئیں میں چکر چلنے لگے۔ ذروں نے کڑوں کی شکل اختیار کر لی۔ یہ کڑے ایک دوسرے سے دور چلنے لگے اوربہت دور جاکر اپنے محور اور کسی مرکز کے گرد گھومنا شروع کر دیا۔

دوم؛ سر جیمزجیمز (1877-1946ء) کہتے ہیں کہ ہماری یہ زمین کسی ستارے کی کشش سے جو سورج کے قریب سے گزرا تھا۔ سورج سے نکلی تھی۔ یہ پہلے آگ کا ایک گولہ تھی۔ جب ہزاروں سال بعد اس کی سطح ٹھنڈی ہو گئی تو ارد گرد کے بخارات پانی بن کر برس پڑے اور یوں سمندر تعمیر ہو گیا۔

سوم؛  جب پانی زمین کی درزوں میں داخل ہو کر بطن زمین کے اہلتے ہوئے لاوے تک پہنچا تو اندر کے پتھر سٹیم کے زور سے باہر آ کر پہاڑ بن گئے اور اس بوجھ سے زمین اسی طرح متوازن ہوگئی جیسے ڈولتی ہوئی کشتی میں ریت کی بوریاں یا پتھررکھ دیے جائیں۔ نیز اندرونی عناصر کے باہر آجانے سے بیرونی سطح روئیدگی کے قابل ہوگئی۔

چہارم؛  ساحلی دلدلوں پر طویل زمانے تک سورج کے چمکنے سے دلدلوں میں ایک جاندار ذرہ پیدا ہو گیا جسے ماہرین حیاتیات آٹو ٹروف  کہتے ہیں۔ جو ایک خلیے   جسے سیل بھی کہتے ہیں سے بنا تھا۔ایمبیا قدرے بعد کی تخلیق ہے۔ایمبیا میں تقسیم ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ دو سے چار، چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ بن جاتا ہے۔

قصر حیات کی پہلی خشت یہی تھا۔

پنجم؛ جب قیامت کے زلزلے سے پہاڑ اُڑ جائیں گے اور ستارے پاش پاش ہو جائیں گے تو ارض وسما کا ہیولی (مادہ) پھر دھوئیں کی طرح خلاء میں اڑنے لگے گا۔ تخلیق  کے ان مدارج کا ذکر قرآن نے بھی کیا ہے۔ مثلاً

اول

اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنهُمَا  ط   وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيّ ، أَفَلا يُؤْمِنُونَ ٥ ط(انبیاء : (۳۰)

" کیا کا فراتنا بھی نہیں دیکھتے کہ آغاز میں ارض و سما کا ہیولی ایک تھا۔ پھر ہم نے اُسے الگ کیا اور زندگی کا آغاز پانی سے کیا۔ کیا وہ اب بھی نہیں مانتے؟

دوم : خلا میں دخان ( دھوئیں ) کا اُڑنا۔

ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلَارُضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرُهَا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ  ط  حم سجده : ۱۲.۱۱)

وَأَوْحَى فِى كُلِّ سَمَاءِ أَمْرَهَا " پھر اللہ نے آسمان بنانے کا ارادہ کیا۔ اُس وقت آسمان ) کا مواد ) دھواں بن کر خلا میں اُڑ رہا تھا۔ اللہ نے ارض و سما سے کہا کہ خوشی سے آؤیا نا خوشی سے۔ اور اپنے فرائض سنبھالو۔ کہنے لگے ! ہم آپ کا حکم خوشی سے بجالائیں گے۔ پھر اللہ نے دو دن میں سات آسمان بنا ڈالے اور ہر آسمان کو اُس کا لائحہ عمل سمجھا دیا ۔ " 

سوم : ۔ بارشوں میں زمین میں زلزلے آنا اور زمین کا روئیدگی کے لیے تیار ہو جانا

وَمِنْ الله انكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا انْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ  ط  حم سجده (۳۹)

" خدائی نشانات میں سے ایک یہ کہ زمین خاموش اور بے جان سی نظر آتی تھی ۔ ہم نے اس پر بارش برسائی تو وہ ملنے اور پھولنے لگی۔"

چہارم : زمین کو متوازن بنانے کے لئے پہاڑوں کی تعمیر : وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْانبیاء (۳۱)

"ہم نے زمین کو ہچکولوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اس پر پہاڑ ڈالے۔

پنجم - واحد الخلیه نامیہ (امیبا ) کا ذکر

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ زمر (۶)

اللہ نے تم کو ایک ایسے جاندار نامیہ سے پیدا کیا ہے جو ہر لحاظ سے ایک تھا۔ 

ششم : یہ نامیہ سمندر اور اس کی دلدلوں میں پیدا ہوا تھا:

إِنَّا خَلَقْتَهُمْ مِنْ طِيْن لاربه(صافات اا )

"ہم نے انہیں لیس دار دلدل سے پیدا کیا۔(نور: ۴۵)

وَاللهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ .

اللہ نے تمام جاندار پانی سے پیدا کیے۔

ہفتم ۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے ارض وسما پھر ذرات میں تبدیل ہو کر دھوئیں کی طرح خلا میں اُڑنے لگیں گے ۔

فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَاتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ 0

اس دن کا انتظار کرو ۔ جب خلا میں پھر دُھواں نمودار ہوگا ۔"

انصاف  فرمائیے کہ کیا آج سے چودہ سو سال پہلے کوئی شخص اس قسم کی باتیں سوچ سکتا تھا ؟ اُس دور میں ان مسائل کا تصور تک موجود نہ تھا۔ اس لیے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں که قرآن مقدس آسمانی کتاب ہے اور اس کی ہر بات خدائی ہے۔

وَيَرَى الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ الَّذِى أُنْزِلَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ (سبا: (٦) اہل علم دیکھ ر ہے ہیں کہ جو کچھ اللہ نے تم پر نازل کیا ہے وہ حقیقت ہے۔"

نتیجہ

کائنات کی تخلیق اور زمین پر زندگی  کی ابتدا سے انتہا تک کے بارے میں قرآن مجید نے جو باتیں چودہ سوسال پہلے بتا دیا ہے جدید سائنس آج اسی بات کی تصدیق کر رہی ہے اور سائنس دانوں نے قرآن پاک کے مطالعے کے بعد ہی اس بارے میں تحقیق شروع کی تھی۔اور تخلیق کائنات کے معتلق جن ماڈرن لوگوں کا نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام خود بخود چل رہا ہے ان لوگوں کے لئےسائنس دانوں کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بہت بڑی طاقت ہے جو اس وسیع و عریض نظام کو چلا رہی ہے اور جدید سائنس کی کل تحقیق اس کائنات کے علم کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ 

theory of edwin about universe


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.