Type Here to Get Search Results !

Ads

ایمان کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں

Quran Kareem with flowers


 
ایک مرتبہ حضرت جبرائیل  علیہ السلام انسانی شکل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں صحابہ اکرام کی موجودگی میں تشریف لائے اور سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟
 اصل میں ایمان ایک ایسا نور ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آتا ہے اور اس سے کفر اور جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاو ،اس کے فرشتوں پر ،اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر ، اور ایمان لاو اچھی بری تقدیر پر''۔
 پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لیکر آیا ہوں''۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین  میں سب سے افضل چھ باتیں ہیں  جن کا ذکر اس حدیث جبریل میں فرمایا۔دیکھا جائے تو پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آ جاتا ہے۔
  اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے ، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص سے اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے۔کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ مشیت کے تابع ہے سب اسی کے محتاج ہیں ،وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں اس کا کوئی شریک و ہمسر نہیں ہے۔
فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اللہ تعالی کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے۔جو اللہ تعالی کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے  بلکہ جو حکم ہو وہ بجا لاتے ہیں اور جس فرشتے کو جس کام کے لئے  اللہ تعالی نے مقرر کر دیا ہے وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔  

  رسولوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضا مندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا ،انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔انسانوں کو اللہ تعالی کی خبریں رسولوں کے ذریعےہی پہنچتی ہیں ،سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے،اور سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک نبوت نہیں ملے گی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا لایا ہوا دین قیامت تک رہے گا۔
 کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطا کئے   ان میں چار آسمانی کتابوں کے نام یہ ہیں ۔توریت حضرت موسی علیہ السلام پر ، زبور حضرت داود علیہ السلام پر  ، انجیل  حضرت عیسی علیہ السلام پر  اور قرآن مجید حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو اللہ عالی نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا اور اب اس کی پیروی سارے اانسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے ، جو شخص اللہ تعالی کی اس آخری کتاب سے رو گردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہو گا۔

قیامت کے دن پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا ختم ہو جائے گی اور زمین و آسمان فنا ہو جائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالی سب کو زندہ کرے گا اور اس دنیا میں لوگوں نے جو نیاک یا بد اعمال کئے ہیں ان سب کا حساب و کتاب ہو گا۔میزان عدل قائم ہو گا اور ہر شخس کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں  گی، جس شخس کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہو گا اسے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہو گیاور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالی کے قرب  کے سائے میں جنت میں رہے۔اور جس شخص کی برائیوں کا پلہ بھاری ہو گا اس کو اللہ تعالی کی ناراضگی کا پروانہ ملے گا اور وہ اللہ تعالی کی رحمت سے دور اپنے گناہوں کی سزا کے لئے جہنم میں رہے گا۔،کافر  ومشرک اور بے ایمان لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔دنیا جس شخص نے کسی دوسرے شکص پر زرہ برابر بھی ظلم و زیادتی کی ہو گی تو قیامت کے دن اس کا حساب ہو گا اور مظلوم کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ الغرض اللہ تعالی  کے انصاف کا دن روز قیامت ہو گا۔

 اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اپنے آپ نہیں چل رہا بلکہ کوئی عظیم طاقت ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے اور وہ طاقت و ہستی اللہ تبارک و تعالی ہیں۔ ار اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مرضی  و حکمت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔اس کائنات کے ہر ذرہ  کے حالات و واقعات کا علم اللہ تعالی کو ہے۔اور اس کائنات کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالی نے ان تمام حالات و واقعات کو جو پیش آنے والے تھے لوح محفوظ پر لکھ دیا تھا۔بس اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے اور اللہ کی حکمت سے ہو رہا ہے اور انسانوں کی زندگی میں جو غم ،خوشی ،دولت ، مالی تنگی، صحت، بیماری جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی مرضی و حکمت سے ہے ۔

 
 
 
 
 
 
 

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.