Type Here to Get Search Results !

Ads

نیوکلیئر ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت کتنی ہے؟

 

explossion cloud of an atom bomb

تعارف؛

لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ نیوکلیئر بم آخر کتنا خطرناک ہوتا ہے اور ابھی تک کا سب سے پاور فل نیوکلیئر وارہیڈ کس کے پاس ہے اگر ہم سب سے پہلے نیوکلیر بم کی بات کریں جو ہیروشیما پر گرایا گیا تھا تو اس کی پاور تھی 15 کلو ٹن اورصرف 10 سیکنڈز میں بم کی ریڈییشن پورے شہر میں پھیل گئی اور زمین کا ٹمپریچر4000 ڈگری تک پہنچ گیا 80 ہزار لوگ مارے گئے بچ جانے والے لاکھوں لوگ اگلے پانچ سالوں میں ریڈی ایشن کی وجہ سے کینسر اور دوسری بھیانک بیماریوں سے مر گئے آج اس نیوکلیئربم کو لو

یلڈ  کو کہا جاتا ہے کیونکہ اب اس سے کئی گنا زیادہ پاور فل نیوکلیئر بم بن چکے ہیں۔

دنیا میں کئے گئے سب خطرناک نیوکلئیر تجربات

شمالی کوریا کا کیا گیا تجربہ

جیسے 2017 میں شمالی کوریا نے ایک نیوکلیئربم ٹیسٹ کیا جس کی یلڈ تھی 250 کلوٹن تھی مطلب ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے

لگ بھگ 15 ٹائم زیادہ پاور فل، اس بم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سارے ر یجن میں 6.3 میگنیٹیوڈ کا زلزلہ آگیا اور اس سے قریبا 30 لوگ مارے گئے ۔

امریکن پی 83 اورکیسل براوو

لیکن تو کچھ بھی نہیں اگلے نمبر پر آتا ہے امریکن پی 83 نیوکلیئر بم اس بم کی یلڈ ہے 1.2 میگا ٹن مطلب اس کی پاور اتنی ہے کہ اس کے آٹھ کلومیٹرز کے ریڈیس میں ہر چیز تقریبا پگھل جائے گی اگلے نمبر پر آتا ہے کیسل براوو دی موسٹ پاور فل نیوکلیئر بم ایور ٹیسٹڈ بائے یو ایس اے 1954 میں امریکہ نے پیسیفک اور شیئر میں ایک نیوکلیئر بمب ٹیسٹ کیا جس کی پاور تھی 15 میگا ٹن۔ یہ بم ہیروشیبا پر گرائے گئے بمب سے1000گنا زیادہ پاور فل تھا اس تجربے کو دی گریٹسٹ ریڈیالوجیکل ڈیزاسٹر ان امریکن ہسٹری کہا جاتا ہے  کیونکہ پیسفیک سمندر کے یہ سارے جزیرے اس ایکسپیریمنٹ سے بہت بری طرح متاثر ہوئے یہ بم سائنس دانوں کی توقعات سے کہیں زیادہ طاقت ور تھا آج بھی ان جزیروں میں اس نیوکلیر ایکسپیریمنٹ کی ریڈییشنز ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوکلز ڈفرنٹ بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔

روس کا زار بم

اسی کے جواب میں پھر 1961 میں سوویت یونین نے بنایا زار بم ہیومن ہسٹری کا سب سے پاور فل اور خطرناک نیوکلیئر یہ ایک ہائیڈروجن بم تھا جس کی پاور تھی 50 میگاٹن۔ 50 میگا ٹن کا مطلب ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جتنے بھی ایکسپلوزو استعمال ہوئے انہیں 10 سے ملٹی پلائی کریں تو یہ ساری پاور صرف ایک بم میں تھی یہ ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے 4000 گنا زیادہ پاور فل تھا یہ ٹیسٹ آرٹک اوشن کے ایک چھوٹے سے آئیلینڈ پر کیا گیا تھا مگر اس کی پاور اتنی زیادہ تھی کہ 600 میل دور بھی اس کے شوکس ایکسپیرینس کیے گئے اس بم کے پٹنے سے 64 کلومیٹر اونچا مشروم کلاؤڈ بن گیا 100 کلومیٹرز کے ریڈیس میں ہر چیز بالکل فلیٹ ہو گئی اس کا ایکسپلوشن اتنا پاور فل تھا کہ اسے ڈراپ کرنے والا جہاز بھی پریڈیشن کی وجہ سے گرتے گرتے بچا حالانکہ بم پھٹنے کے وقت یہ جہاز بم والی جگہ سے الموسٹ 30 میل دور تھا اسی ایکسپیریمنٹ کے بعد امریکہ اور سعودیت یونین نے 1963 میں لمٹڈ ٹیسٹ بینڈ ٹریٹی سائن کی جس میں یہ ایگری کیا گیا کہ اب کسی بھی اوپن ایٹموسفئیر جیسے کہ آئیلینڈ جنگل یا سمندر

میں نیوکلیئر ٹیسٹنگ نہیں کی جائے گی۔

Comparison of a nuclear explosion


عالمی نیوکلیائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی

لیکن 1960 ،70اور 80 میں یہ حالات چل رہے تھے کہ دنیا پر ایک نیوکلیئر وار کا خطرہ بن جا رہا تھا کیونکہ ایسٹ اور ویسٹ کے بیچ ٹینشن بہت ہائی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ستمبر 1983 میں سوویت یونین نے کوریا کا ایک پیسنجر پلین گرا دیا جس میں قریبا 270 پیسنجرز مارے گئے ان مرنے والوں میں 40 امریکن بھی تھے سوویت یونین نے اسے ایک ایکسیڈنٹ ڈکلیئر کیا کہ یہ جہاز سعودیت یونین کے سب سے حساس ایریا کے اوپر سے گزر رہا تھا جہاں پر سوویت کی نیوکلیئر سب میرین بیس تھی اور اسی لیے ان کے میزائل سسٹم نے جہاز پر میزائل داغ دیا امریکہ اس انسیڈنٹ پر شدید غصے میں تھا۔اس واقعہ نے عالمی تناؤ کو بڑھایا اور سرد جنگ کے دوران بین الاقوامی تعلقات کی غیر یقینی نوعیت کو اجاگر کیا۔

خلاصہ؛

ایٹمی ہتھیاروں کی بے پناہ طاقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، ان کی تاریخ ان کے استعمال کے تباہ کن نتائ کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ یہ تاریخ مستقبل میں ہونے والی جوہری آفات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے اور مستقبل کی طرف کوشش کرنی چاہیے جہاں ان ہتھیاروں کی طاقت کو انتہائی ذمہ داری اور دور اندیشی کے ساتھ استعمال کیا جائے، تاکہ عالمی امن اور سلامتی قائم رہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.