ایک چھوٹا سا پرندہ جو کہ ہاوس اسپیرو یا چڑیا کہلاتا ہے جو کہ عام طور پر ہمیں دیہاتی علاقوں کے اندر سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتی تھیں کہ اچانک سے یہ دکھنابند ہو گیا یا کم ہو گیا۔ مارچ 2011میں ایکسپریس ٹریبیون کے اندر ایک رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق خاص طور پر ساؤتھ ایشیا کے ملکوں انڈیا ، پاکستان ، بنگلہ دیش کے شہروں کے اندر ان کی آبادی لگ بھگ ختم ہونے کے قریب ہے اور یہ خبر انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اگر یہ چڑیا ہمارے ماحول سے غائب ہو جاتی ہیں تو یہ بات یاد رکھیں کہ انسانوں کو ایسی جان لیوا بیماریاں شروع ہوجائیں گی جس کے بارے میں ہم نے آج سے پہلے سنابھی نہیں اور نہ ہی ان کا علاج ممکن ہوگا لیکن کیسے آئیے جانتے ہیں دیکھیں آج بہت سارے فیکٹرز ایسے ہیں جو کہ صرف ان ہاؤس فائلز یا چڑیوں کو ہی نہیں بلکہ کی لوکل پرندوں کی نسل کو ایک ایک کر کے ختم کر رہے ہیں صرف کراچی شہر کے اندر ان کی پاپولیشن تقریبا 80 فیصد تک گر چکی بالکل یہی حال بھارت کے اندر بھی ہے اور وہاں پر بھی ان کی پاپولیشن اسی فیصد تک گر چکی ہے۔
1958 میں چائنا کے لیڈر ماؤں نے ایک ایسی غلطی کی تھی جس کی وجہ سے
ساڑھے چار کروڑ لوگوں کو اپنی جان دینا پڑی دراصل ہوا کچھ یوں کہ چائنا کے اندر
اگلےپندرہ سال کا ایک منصوبہ بنایا گیا کہ معیشت کو ترقی دے کر
اسے امریکہ اور برطانیہ کے برابر پہنچانا ہے لہذا اس ٹائم ایگریکلچر کی پرفارمنس
کو بنانے کے لیے ماؤں کی حکومت کے اندر ہی گریڈ سپائرو کمپین کو چلایا گیا جس کے
مطابق چڑیا چوہوں مکھیوں اور مچھروں کو
بالکل مار کر چائنہ سے ختم کرنے کا پلان بنایا گیا طور پر یہ ظلم ان چڑیوں پر کیا
گیا کیونکہ ان سے متعلق چائنیز ریسرچرز کا کہنا تھا کہ ہر ایک چڑیا ہر سال تقریبا
چار کلوگرام کھانا کھا جاتی ہے اور پھلوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے اور یہ چڑیاں
کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں تو ہم اس کھانے کو بچا کر اپنے لوگوں کے لئے اس کر
سکتے ہیں لہذا اس کمپین کی بہت زیادہ پروموشن کی گئی اس کے لیے باقاعدہ ایک فورس
قائم کی گئی چائنہ کے لوگوں کو موٹیویٹ کیا گیا اور پورے چائنہ کے اندر کروڑوں
چڑیوں کو مار دیا گیا ان کے انڈوں اور گھونسلوں کو تباہ کر دیا گیا اور اگلے دو
سالوں کے اندر ان کی تعداد لگ بھگ ختم ہونے کی قریب آگئی۔
لیکن یہ لوگ یہ بات بھول
گئے کہ چھوٹی سی جگہ بھی انوائرمنٹ کا بیلنس قائم رکھتی ہے اور صرف یہ اناج نہیں
بلکہ کیڑے مکوڑوں کو بھی کھا جاتی ہے جس کی وجہ سے انوائرمنٹ کے اندران کی تعداد بیلنس رہتی ہے اب اس کا علم ہوا دیکھ کے کیڑوں
کی تعداد بڑھنے لگی خاص طور پر ٹڈوں کی آبادی کے بڑے بڑے جھرمٹ کی صورت میں آتے
اور ہزاروں ایکڑ پر پھیلی فصلوں کو چٹ کر جاتے چائنہ کے لوگوں نے ایسا حملہ پہلے
کبھی نہیں دیکھا تھا لہذا اس بار انہوں نے اس سے بچاؤ کے لیے سپرے بھی شروع کیے
لیکن یہ سفر الٹا فصلوں کو زہریلا کر کے مزید خراب کرنے لگے اور ان کی پیداوار بھی
حد سے زیادہ گر گئی فصلیں اتنی زیادہ کم ہوگئیں کہ لوگوں کو کھانے کے لالے پڑ گئے
قحط پڑ گیا اور لوگ بھوک سے مرنے لگے اتنی بری حالت ہوگئی کہ لوگ صرف مٹی کھا کر
گزارہ کرنے لگے ۔
آخرکار ماؤں نے تنگ آ کر
1960 کے اندر یہ پروگرام بند کر دیا لیکن اب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ 1958 سے 1961
تک تقریبا بھوک کی وجہ سے ساڑھے چار کروڑ لوگ مارے گئے اور اس کے پیچھے صرف اور
صرف ایک چھوٹی سی غلطی تھی اور وہ یہ تھی کہ اس پرندے کو مار دینا اور اس وقت
بالکل یہی حالت ہمارے ملک کی ہونے والی ہے ایک اہم وجہ کے درختوں کی کٹائی کی وجہ
سے ہونے والے ہر سال ٹمپریچر کے اندر اضافے کی وجہ یا پھر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے
یہ چھوٹا سا پرندہ مزید گرمی اور سردی کو برداشت نہیں کر پارہا شدید گرمیوں کے اندر لوگوں نے اپنی چھتوں پر پانی تک
رکھنا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے یہ چھوٹا سا پرندہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے دم توڑ
رہا ہے لیکن افسوس کہ آج اس بارے میں کسی کو بھی کوئی فکر نہیں ہے باقی آپ اس بارے
میں سوچتے ہیں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹ ضرور کیجئے گا ۔


